مُشاہد رضوی
 وہ مان گئے تو وصل کا ہو گا مزہ نصیب

شہنشاہ سخن استاذ زمن علامہ حسن رضا بریلوی 

وہ مان گئے تو وصل کا ہو گا مزہ نصیب
دل کی گرہ کے ساتھ کھلے گا مرا نصیب
کھائیں گے رحم آپ اگر دل بگڑ گیا
ہو جائے گا ملاپ اگر لڑ گیا نصیب
خنجر گلے پہ سر تہِ زانوے دل رُبا
اے مجرمانِ عشق تمہارے خوشا نصیب
پچھلے کو لطفِ وصل سے فرقت ہوئی ہمیں
سویا سحر کو رات کا جاگا ہوا نصیب
شب بھر جمالِ یار ہو آنکھوں کے رُوبرو
جاگیں نصیب جس کو ہو یہ رَت جگا نصیب
اے دل وہ حال سن کے ہوئے برہم اور بھی
اب کوئی کیا کرے تری قسمت ترا نصیب
قسمت کے چین سے بھی اذیت ہے ہجر میں
تڑپا میں ساری رات جو سویا مرا نصیب
بے درد دل عدو کی گلی اور یہ ذلتیں
اس درد کی تجھے نہ کبھی ہو دوا نصیب
پہرا دیا ہے دولتِ بیدارِ حسن کا
سوئے جو وہ بغل میں تو جاگا مرا نصیب
پہنچا کے میری خاک درِ یار تک صبا
رُخصت ہوئی یہ کہہ کر اب آگے ترا نصیب
محرومِ دید جلوہ گہِ یار سے چلے
اس سے زیادہ اور دکھائے گا کیا نصیب
اے دل وہ تجھ سے کہتے ہیں میری بَلا ملے
ایسے ترے نصیب کہاں اے بَلا نصیب
دشمن کی آنکھ اور ترا روے پُر ضیا
اس تیرہ بخت کا یہ چمکتا ہوا نصیب
دل کا قرار ہے تو اُنھیں پہلوؤں میں ہے
اے کاش ہو نصیب مرا غیر کا نصیب
میناے مے نے سر کو جھکا کر کیا سلام
تم بھی دعا دو حضرتِ زاہد بڑا نصیب
اُس خاکِ دَر کا کنگرۂ عرش پر دماغ
اُس رَہ گزر کے ذرّوں کا چمکا ہوا نصیب
اے دل عدُو کا سینہ ہے اور دستِ یار ہے
تیرے ہی آبلوں کا ہے پھوٹا ہوا نصیب
جب دردِ دل بڑھا تو اُنھیں رحم آ گیا
پیدا ہوئی چمک تو چمکنے لگا نصیب
پہنچے ہم اُن کے پاس نہ فریاد کان تک
کس کس کرم کا شکر کریں نا رَسا نصیب
وہ شہ نشیں میں رہ کے کھنڈر کیا کریں پسند
ٹوٹے ہوئے دلوں کا ہے پھوٹا ہوا نصیب
پہنچا دیا ہے تجھ کو لبِ گور ہجر میں
اے دل ہو دشمنوں کا ترے نارسا نصیب
تشریف لائے ہیں وہ مجھے سن کے جاں بلب
کس وقت دردِ دل کی ہوئی ہے دوا نصیب
دشمن کو لطفِ وصل، حسنؔ کو غمِ فراق
ہر شخص کا جدا ہے مقدر، جدا نصیب
0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.