مُشاہد رضوی

برادر اعلی حضرت مولانا حسن رضا تلمیذ بلبل ہندوستان داغ دہلوی




مولانا حسن رضا کی سیرت پر یوں تو بہت کم لکھا گیا ہے لیکن جو کچھ ضبط تحریر میں آ چکا وہ بھی مولانا کی قدآور شخصیت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کرتا۔ مولانا حسن رضا ورع و تقوی ، علم و فضل ، نعت گو شاعر ، ادیب وغیرہ وغیرہ تو تھے ہی لیکن جس پہلو کی طرف ہم متوجہ کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ مولانا حسن رضا بلبل ہندوستان داغ دہلوی کے شاگرد تھے اور اس شاگردی پر آپ کو بہت ناز تھا ۔ چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں

پیارے شاگرد تھا لقب اپنا
کس سے اس پیار کا مزہ کہیے

یوں ہی مولانا حسن رضا نے اپنے اشعار میں کئی مقامات پر اپنی نسبت شاگردی کا اظہار کیا۔ جس کا ادراک ہمیں مولانا حسن رضا کے (کلام مجاز میں ) دیوان ثمر فصاحت کے مطالعہ سے ہوا۔ چنانچہ دوران مطالعہ میں نے وہ تمام اشعار اسی نیت سے اکٹھے کر لئے کہ مولانا حسن رضا کی اس نسبت تلمذ کو اُجاگر کیا جائے۔ چنانچہ میں وہ تمام اشعار یہاں تحریر کر رہا ہوں۔ وقت کی قلت کے سبب ان کی کوئی خاص ترتیب نہیں لگا سکا ۔ امید ہے کہ ان اشعار کو پڑھنے سے ہی اس مضمون کا مقصد حاصل ہو جائے گا۔ انشاء اللہ عزوجل

( یہ تمام اشعار مولانا کے دیوان ثمر فصاحت مطبوعہ مطبع اہل سنت بریلی سے لئے گئے ہیں، یہ دیوان نفس اسلام ڈاٹ کام کی آن لائن لائبریری میں اردو کتب کے سیکشن سے ڈاؤنلوڈ کیا جاسکتا ہے۔ قارئین کی سہولت کے پیش نظر میں ہر شعر کے آخر میں اسی نسخہ کا صفحہ نمبر تحریر کر رہا ہوں)
مولانا حسن رضا فرماتے ہیں

کیوں نہ ہو میرے سُخن میں لذت سوزو گُداز
اے حسن شاگرد ہوں میں داغ سے اُستاد کا (ص 4)

جس کو زمانہ بلبل ہندوستاں کہے
اب کون ہے حسن شعراء میں سوائے داغ (ص 54)

حال اب یہ ہے حسن کا کہ بقول استاد
رات بھر ہائے صنم ہائے صنم کرتے ہیں ( ص 61)

حضرت استاد کے دیکھیں قدم چل کر حسن
گر خدا پہنچا دے ہم کو مصطفی آباد میں ( ص 65)

ذوق کے شاگرد کے شاگرد کا دیکھیں کلام
باحیا ہیں اب بھی گر ڈوبیں نہ دشمن آب میں ( ص 87)

لطف ان سست مضامین میں کہاں سے آئے
اے حسن گر کرم حضرت استاد نہ ہو ( ص 98)

یہ گل فشانیاں تو نہ ہوتیں کبھی حسن
تم نے چُنے ہیں پھول یہ گلزار داغ سے (ص 107)

مولانا حسن رضا نے اپنے استاد کے دیوان آفتاب داغ کی طباعت کے موقع پر تاریخ طباعت بصورت نظم تحریر فرمائی جو کہ ثمر فصاحت کے صفحہ نمبر 188 پر موجود ہے۔ ہم اس کو قارئین کے ذوق طبع کے لئے بعینہ نقل کر رہے ہیں

حسن استاد سے اپنے مجھے یہ عرض کرنی ہے
کہ سایہ تم پہ ہو یسین کی ساتوں مبینوں کا
کنار طبع سے آج آفتاب داغ چمکا ہے
کہ گھونگھٹ اٹھ گیا ہے دفعتاََ سو مہ جبینوں کا
نزاکت اور صفائی دونوں اس سے قول ہاری ہیں
نہیں دیوان مگر مکھڑا ہے مہوش نازنینوں کا
زمین شعر سے کیا کیا جگمگائی اس کے پرتو سے
یہی سرور ہے بزم نظم میں گردوں نشینوں کا
اسی کی روشنی میں معنی نازک چمکتے ہیں
اسی سے گرم ہنگامہ ہے سب باریک بینوں کا
اسی سے پرورش پاتے ہیں لعل معنی رنگین
اسی کی ضو سے گھر روشن ہے مضموں کے خزینوں کا
اسی کی دھوپ میں اڑتی ہے رنگت روئے حاسد کی
اسی کے آگے فق ہوتا ہے منہ دقت گزینوں کا
اسی کے سامنے آنکھیں جھپک جاتی ہیں اعدا کی
یہیں تو جھلملاتا ہے چراغ ان عیب چینوں کا
سر بد ہیں کبھی کا اوڑ چکا تاریخ لکھو تم
پریر دلوں کا جمگھٹ ہے یہ میلا ہے حسینوں کا
[
۱۳۰۲ ہجری]

اس کے علاوہ اپنے استاد بلبل ہندوستان کی وفات
۱۳۲۲ ھ پر بھی تاریخ انتقال نظم کی جوکہ ثمر فصاحت کے صفحہ نمبر 196-197 سے ہدیہ قارئین کی جاتی ہے۔
گئے جنت کو حضرت استاد
غم فرقت کا حال کیا کہیے
اس قیامت کو حشر زا لکھیے
اس مصیبت کو جانگزا کہیے
فلک نظم پر قمر نہ رہا
شمس *کو آج بے ضیا کہیے
کہتی ہے بزم نظم کی حالت
عیش منزل کو غم سرا کہیے
ملک کیسا وہ تھے فصیح زمان
اب فصاحت کا خاتمہ کہیے
بلبل ہند اور جہان استاد
بلکہ اس سے بھی کچھ سوا کہیے
یاد ہیں رام پور کے جلسے
ان کی شفقت کا حال کیا کہیے
پیارے شاگرد تھا لقب اپنا
کس سے اس پیار کا مزہ کہیے
پوچھیے کس سے اب رموز سخن
کس سے خاطر کا مدعا کہیے
مر مٹیں نظم کی تمنائیں
آہ کس کس کا مرثیہ کہیے
شدنی وہ جو بے ہوئے نہ رہے
ایسی صورت میں ہائے کیا کہیے
مرگ استاد کی حسن تاریخ
داغ نواب میرزا کہیے
[
۱۳۲۲ھ]
0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.