مُشاہد رضوی

نگہِ قہر ہے ہر لحظہ گرفتاروں پر
دیکھیے کیا غضب آتا ہے گنہ گاروں پر

قتل ہونے کی تمنا ہے یہ اُن ہاتھوں سے
خود گلا دوڑ کے ہم رکھتے ہیں تلواروں پر

ساقیا جامِ مئے سرخ کا پھر دَور چلے
دیکھ وہ کالی گھٹا چھائی ہے گل زاروں پر

بڑھ کے نکلے یہ قمر حسن میں تجھ سے توبہ
ایسے سو چاند تصدق ترے رُخساروں پر

بلبلو فصلِ بہاری کا بھروسہ کیا ہے
خاک اُڑ جائے گی دو روز میں گلزاروں پر

کر دے پامال ہی ظالم کہ یہ جھگڑا تو مٹے
ہاتھ رکھتا نہیں کوئی ترے بیماروں پر

تو نے اس شعلۂ عارض سے لگائی پھر لو
دلِ پُر سوز لٹاؤں تجھے انگاروں پر

پوچھنا چھوڑ دیا جب سے مری جاں تو نے
مُردنی چھائی ہوئی ہے ترے بیماروں پر

اے حسنؔ اُٹھو کمر باندھو چلو صبح ہوئی
بُجھ گئیں شمعیں وہ جوبن نہ رہا تاروں پر
0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.