مُشاہد رضوی

مریض ہجر اُمید سحر نہیں رکھتا


مریض ہجر اُمید سحر نہیں رکھتا
غضب ہے پھر بھی وہ غافل خبر نہیں رکھتا

یہ پھنک رہا ہوں تپِ عشق و سوزِ فرقت میں
کہ مجھ پہ ہاتھ کوئی چارہ گر نہیں رکھتا

گلہ ہے اُس سے تغافل کا حضرتِ دل کو
جو مستِ ناز ہے اپنی خبر نہیں رکھتا

تجھے رقیب کی کرنی پڑے گی چارہ گری
سمجھ تو کیا مرا نالہ اَثر نہیں رکھتا

تلاشِ مست تغافل میں میرا گم ہونا
وہ مبتدا ہے جو کوئی خبر نہیں رکھتا

ہم اُن سے پوچھیں سبب رنج بے سبب کا کیوں
رقیب ہم سے عداوت مگر نہیں رکھتا

غضب ہے آہ مری حالت تباہ مری
وہ اس لیے مجھے پیشِ نظر نہیں رکھتا

مگر قریب ہے اب کوئے قاتلِ عالم
کہ مجھ سے آگے قدم راہبر نہیں رکھتا

سوائے ڈیوڑھے ہیں بازارِ عشق میں اُس کے
جو فکرِ نفع و خیالِ ضرر نہیں رکھتا

کہو تو بزمِ عدو کا کہوں مفصل حال
تمہیں خبر ہے کہ میں کچھ خبر نہیں رکھتا

نگاہِ ناز سے اب کس لیے مجھے دیکھیں
حسنؔ میں دل نہیں رکھتا جگر نہیں رکھتا
مُشاہد رضوی
 دمِ مُردن ترے قدموں پر اگر سر ہوتا


دمِ مُردن ترے قدموں پر اگر سر ہوتا
حشر میں تاجِ کرامت مرے سر پر ہوتا

پھر تو کچھ حالِ مصیبت تجھے باوَر ہوتا
تیرے پہلو میں جو میرا دلِ مضطر ہوتا

کیا ہوا صدمے اٹھا کر جو ہوا دل پتھر
خوب ہوتا جو یہ پہلے ہی سے پتھر ہوتا

کیا کہوں طولِ شبِ ہجر ستم گر تجھ سے
کچھ نہ ہوتا تو تری زُلف سے بڑھ کر ہوتا

اُلفت زلف نے بچپن ہی سے پھانسا مجھ کو
ہوش ہوتے تو میں دیوانہ سمجھ کر ہوتا

غیر پر پھول وہ یوں پھینکے ہمارے آگے
ہائے یہ پھول نہ ہوتا کوئی پتھر ہوتا

قسمت بخت میں گردش تو لکھی تھی لیکن
خوب ہوتا جو تری بزم کا ساغر ہوتا

ہوتے بے خود تو وہ بہت خوب  ہی کُھل کر ملتا
وصل ہو کر جو نہ ہوتا وہ نہ ہو کر ہوتا

تیشہ کے بھیس میں آتے نہ اگر حضرتِ عشق
کوہ کا کاٹنا فرہاد کو پتھر ہوتا

میرے دشمن بنے اَغیار کے وہ یار بنے
پھر کہو اُن سے مرا فیصلہ کیوں کر ہوتا

آپ کیا کہتے ہیں دشمن کے برابر ہے حسنؔ
خوب ہوتا جو میں دشمن کے برابر ہوتا


مُشاہد رضوی
قاصد سے کہہ رہے تھے سُنا ماجرا سُنا
 


قاصد سے کہہ رہے تھے سُنا ماجرا سُنا
ہم سے توکہیے حضرتِ دل تم نے کیا سنا

کس نے سنایا اور سنایا تو کیا سنا
سنتا ہوں آج تم نے مرا ماجرا سنا

تم کیا سنو گے اور کہے تم سے کوئی کیا
اس دل سے پوچھو جس نے مرا ماجرا سنا

مرنے کا میرے رنج نہیں ان کو ضد یہ ہے
روئے مجھے نہ بخشے جو میرا کہا سنا

ایسے سے دل کا حال کہیں بھی تو کیا کہیں
جو بے کہے کہے کہ چلو بس سنا سنا

وصل عدو کا حال سنانے سے فائدہ
للہ رحم کیجیے بس بس سنا سنا

قاصد ترے سکوت سے دل بے قرار ہے
کیا اُس جفا شعار نے تجھ سے کہا سنا

آخر یہ آج کیا ہے کہ صبح شبِ وصال
قتم ہم سے بخشواتے ہو اپنا کہا سنا

تم نے ہمیں عتاب میں جو کچھ کہا کہا
ہم نے ہجومِ شوق میں جو کچھ سنا سنا

کانوں میں باتیں غیرسے پھر مجھ سے یوں سوال
کیوں جی تمہیں ہماری قسم تم نے کیا سنا

آخر حسنؔ وہ روٹھ گئے اُٹھ کے چل دیے
    کم بخت اور حالِ دلِ مبتلا سنا
مُشاہد رضوی
 چلا آیا کلیجا تھامے تجھ سا فتنہ گر دیکھا


چلا آیا کلیجا تھامے تجھ سا فتنہ گر دیکھا
دعا میں ہم سے مظلوموں کی ظالم کچھ اَثر دیکھا

خفا کیوں ہو گئے کس واسطے آنکھیں چُراتے ہو
خطا کیا ہو گئی تم کو اگر آدھی نظر دیکھا

ستم یہ دشمنوں پر ہوں اُٹھائیں وہ تو ہم جانیں
ذرا اُن کا بھی دل دیکھو ہمارا تو جگر دیکھا

عجب سکتے کی صورت ہے غضب حیرت کا عالم ہے
خبر کیا آئنہ نے آج کیا وقت سحر دیکھا

لیے تو جاؤں اُس کی بزم میں اے دل مگر ڈر ہے
میں رو بیٹھوں گا تجھ کو اُس نے جب ہنس کر اِدھر دیکھا

گرے پڑتے ہیں آنسو دل ہوا جاتا ہے بے قابو
خدا سمجھے پھر اُن کم بخت آنکھوں نے اِدھر دیکھا

یوہیں کیف تجلی ہم اُٹھا کر دل کو سمجھا لیں
ہم اس کو دیکھ لیں جس نے تجھے آدھی نظر دیکھا

دلِ مشتاق کس کی یاد ہے کس کا تصور ہے
جو تو نے اِس قدر حسرت سے رُخسارِ قمر دیکھا

بیانِ مرگِ عاشق سن کے وہ دشمن سے کہتے ہیں
بلانے کو مرے اُس نے اُڑائی کیا خبر دیکھا

سنا تھا مرگِ عاشق کھینچ لاتی ہے جنازہ پر
نہ آیا نعش پر بھی وہ ستم گر ہم نے مر دیکھا

کسی رہرو پر آ جانا طبیعت کا قیامت ہے
نہ اُس کے نام ہی سے واقفیت ہے نہ گھر دیکھا

وہ جلوے اُس نے دیکھے ہیں نہ دیکھے جو ملائک نے
کہاں پہنچا کسے دیکھا حسنؔ اوجِ بشر دیکھا
مُشاہد رضوی

فتنہ گر کیا میرا نالہ رَسا ہو جائے گا


فتنہ گر کیا میرا نالہ رَسا ہو جائے گا
کچھ نہ ہو گا جب بھی اِک محشر بپا ہو جائے گا

پردۂ دَر تو اُٹھاتے ہو جنابِ دل مگر
یہ بھی ہے معلوم کس کا سامنا ہو جائے گا

فتنے پیدا ہوتے ہیں طرزِ خرامِ ناز سے
جب چلو گے دو قدم محشر بپا ہو جائے گا

خوش ہوئے تھے ہم کہ خنجر تو گلے سے مل گیا
کیا خبر تھی یہ بھی دم دے کر جدا ہو جائے گا

جس کو دل دیتا ہوں جس پر جان کرتا ہوں فدا
یہ نہ سمجھا تھا وہی دشمن مرا ہو جائے گا

بے محابا تم چلے آؤ کہ اہلِ بزم پر
بے خودی چھائے گی خود ہی تخلیہ ہو جائے گا

آج بیمارِ الم کے طور کچھ بے طور ہیں
تم نظر بھر دیکھ آؤ گے تو کیا ہو جائے گا

قتل کرنے کو وہ کیا پردے میں چھپ کر آئیں گے
یوں بھی تو پورا ہمارا مدعا ہو جائے گا

دل نہ دینے کی شکایت ہے عدو کے سامنے
یہ تو کہیے آپ کا وعدہ وفا ہو جائے گا

رحم آ ہی جائے گا اُن کو دلِ بیمار پر
درد بڑھتے بڑھتے آخر کو دوا ہو جائے گا

بے ڈبوئے پھر نہ چھوڑے گا ستم گر اے حسنؔ
کشتیِ دل کا اگر وہ ناخدا ہو جائے گا
مُشاہد رضوی
پوچھتے ہیں لوگ کیوں مضطر تیرا دل ہو گیا


پوچھتے ہیں لوگ کیوں مضطر تیرا دل ہو گیا
کچھ تمہیں معلوم ہے کس پر یہ مائل ہو گیا


خوش نہ ہوں ٹکڑے اگر آئینۂ دل ہو گیا
اُن کی یکتائی کا دعوی بھی تو باطل ہو گیا


آنکھ سے دیکھا ہو تو ناصح کسی کا نام لوں
کیا خبر کس کے لیے مضطر مرا دل ہو گیا


کیا تیری تیغ اَدا ہے موجۂ آبِ حیات
پڑگیا زندوں میں وہ تو جس کا قاتل ہو گیا


حُسنِ لیلیٰ کو غرض پردہ نشینی سے نہ تھی
قیس ہی کا بختِ بد در پردہ محمل ہو گیا


دل دُکھانا کیا کہ اب ہے قتل بھی واجب مرا
یہ گنہ کیا کم ہے اُن پر قلب مائل ہو گیا


نرم ہو کر اپنے پہلو میں جگہ دینے لگا
پاؤں جس پتھر پر اُس نے رکھ دیا دل ہو گیا


سخت جانی نے نہ پوری ہونے دی اُمید قتل
گِر گئی تلوار، شل بازوے قاتل ہو گیا


غیر دشمن اپنے بیگانے زمانہ بر خلاف
دل لگانے کا جو حاصل ہے وہ حاصل ہو گیا


خود لگانا تاک کر دل پر مرے تیر نظر
خود ہی کہنا بیٹھے بیٹھے کیوں یہ بسمل ہو گیا


حُسن عالم سوز کا پردے میں رہنا تھا محال
دیکھ لو جلوہ تمہارا شمع محفل ہوگیا


آئنے دیکھ اپنا منہ، حد سے قدم آگے نہ ڈال
تو بھی اُن کے سامنے آنے کے قابل ہو گیا


سخت جانوں سے اجل پھرتی ہے کترائی ہوئی
ہم نے یہ صدمے سہے مرنا بھی مشکل ہو گیا


ناز اپنے دیکھیے انداز اپنے دیکھیے
کیا کہوں قابو سے باہر کیوں مرا دل ہو گیا


ایک جلوے نے ترے بدلی ہیں کیا کیا صورتیں
دل کا آئینہ ہوا آئینہ کا دل ہو گیا


کیا خبر اُس کو کہ وہ ناوک فگن ہے مستِ حُسن
چھد رہا کس کا کلیجہ کون بسمل ہو گیا


پھر میں کہہ دوں گا جلا کیوں صورتِ پروانہ دل
یہ بتا دے پہلے تو کیوں شمع محفل ہو گیا


اس قدر قولِ منجم سے پریشاں کیوں ہوئے

مدتیں گزریں حسنؔ یہ علم باطل ہو گیا
مُشاہد رضوی
مر گیا بیمارِ فرقت مختصر قصہ ہوا


مر گیا بیمارِ فرقت مختصر قصہ ہوا
روز کا جھگڑا مٹا بہتر ہوا اچھا ہوا


مرگِ عاشق پر یہ رہ رہ کر تأسف کس لیے
خاک ڈالو ذکر بھی چھوڑو جو ہونا تھا ہوا


آپ ہی قصداً بلانا مجھ کو جاتا دیکھ کر
آپ ہی پھر چھیڑ سے کہنا مجھے دھوکا ہوا


آپ کی تو میری بدنامی سے بدنامی نہیں
آپ تو رُسوا نہ ہوں گے میں اگر رُسوا ہوا


الفتِ گیسوے جاناں عمر ہو تیری دراز
دل بَلاؤں میں پھنسا کر مفت میں سودا ہوا


آنکھوں آنکھوں میں مرے دل کو چُرانا آپ ہی
آپ ہی پھر میری حیرت پر یہ کہنا کیا ہوا


آپ سچے ہیں گیا تھا میں ہی بزمِ غیر میں
سر جھکائے مَیں ہی تو بیٹھا ہوں شرمایا ہوا


میں یہ کہتا ہی رہا دیکھو دلِ بے کس نہ لو
وہ یہ سنتا ہی رہا دل چھین کر چلتا ہوا


کلمۂ بے جا نہ کہنا تم حسنؔ کی شان میں
زاہدو تم اُس کو کیا جانو وہ ہے پہنچا ہوا

مُشاہد رضوی
مے سے کیا رنگ کا نکھار ہوا


مے سے کیا رنگ کا نکھار ہوا
پھول پیکر وہ گل عذار ہوا

خاک میں مل گئی خوشی اپنی
کہ وہ دشمن کا سوگوار ہوا

میرے دل پر بھی اب کوئی جلوہ
طور کا تو بہت وقار ہوا

تمہیں ٹھوکر لگانے سے مطلب
مَیں ہوا یا مرا مزار ہوا

آہ عاشق ذرا سنبھل کے سنو
یہ بھی کیا نالۂ ہزار ہوا

اُن کے جلوے کی گرمیاں دیکھو
دلِ ہر سنگ میں شرار ہوا

آنکھ وہ ہے جو اشک بار رہی
دل وہی ہے جو بے قرار ہوا

نہیں ملتا ہمیں نہیں ملتا
دل بھی یا رب مزاجِ یار ہوا

غیر تھا منہ لگانے کے قابل
جاؤ بھی تم کو کس سے پیار ہوا

دستِ وحشت نے پھر نکالے پاؤں
سر پر اب پھر جُنوں سوار ہوا

ہاں جی سچ تو ہے تم کو کیا معلوم
دل مرا آپ بے قرار ہوا


فتنہ جو تیری چال سے اٹھا
وہی آشوبِ روزگار ہوا


ہائے رے اُس کے دل کی ناکامی
جو تمہارا اُمید وار ہوا

داغِ الفت جگر میں دیکھ لیے
بد گماں اب تو اِعتبار ہوا

لوگ دل تھامے پھر رہے ہیں کیوں
کیا وہ پردے سے آشکار ہوا

سچ تو ہے تم کو غیر سے کیا کام
یہ میں بیٹھا ہوں شرم سار ہوا

ترس آتا ہے اُس کی حالت پر
تم کو جس دل پر اختیار ہوا

ہیں یہی ضبط عشق کے دشمن
تو ہوا موسم بہار ہوا

ہو گیا صرفِ گریہ عنصر آب
دیکھ اتنا میں اشک بار ہوا

کُھل گیا عشق غیر اسی سے کہ وہ
تیرے آگے نہ بے قرار ہوا

شاید اب دوست دیکھنے آئے
غیر حالِ وفا شعار ہوا

کیا قیامت تھیں پیار کی نظریں
میٹھی چُھریوں سے دل فگار ہوا

تھا جو اک مست مے کا دیوانہ
خشت خم سے میں سنگ سار ہوا

دیکھ بلبل سنبھل کر اس گل کو
یہ بھی کیا جلوۂ بہار ہوا

مشک کی کس سے چھپ سکی خوشبو
عشق کا کون پردہ دار ہوا

محوِ عشرت ہوں یہ کہ یاد نہیں
رات کس سے میں ہمکنار ہوا

اس کو سمجھیں ہیں راز حضرتِ دل
جو زمانے پر آشکار ہوا

رفتہ رفتہ وہ جلوۂ بے باک
آفتِ جانِ روزگار ہوا

آؤ تیار ہے جنازہ مرا
یہ بھی کیا آپ کا سنگار ہوا

اے حسنؔ مے کشی کو بیٹھ گئے
کچھ ہمارا بھی اِنتظار ہوا

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.