مُشاہد رضوی
 دیکھے جمالِ حور اگر مبتلاے دوست
 
شہنشاہ سخن استاذ زمن علامہ حسن رضا بریلوی
 
دیکھے جمالِ حور اگر مبتلاے دوست
بے اختیار منہ سے نکل جائے ہائے دوست
دل میں مقامِ دوست ہے آنکھوں میں جاے دوست
پھر بھی تلاشِ دوست میں ہے مبتلاے دوست
سینہ میں دل نہاں ہے تو دل میں وِلاے دوست
چھپتا نہیں ہے پھر بھی کبھی مبتلاے دوست
نیچی نظر سے کیوں نہ قیامت اُٹھائے وہ
سو شوخیاں جِلو میں لیے ہے حیاے دوست
کیا سمجھے کوئی معنیٔ اَسرارِ عاشقی
دل ہی میں دوست‘ دل ہی میں شوقِ لقاے دوست
سر گشتہ جستجو میں پھرا ہوں کہاں کہاں
کیا چال دے گئے ہیںمجھے نقش پاے دوست
لائے گا رنگ پنجۂ رنگیں شباب میں
پیسے گی سینکڑوں کے کلیجے حناے دوست
دل کے ہزار ٹکڑے ہوں ہر ٹکڑے میں ہوں وہ
پھر بھی یہی کہوں نہیں ملتی سراے دوست
ہے دل کا دوست عقل کے دشمن کا دوست دار
دشمن کے دوست کو یہ کہے ہائے ہائے دوست
اے آسمان آہ کہ یوں انقلاب ہو
اپنا ہو غیر غیر ہو اپنا بجائے دوست
ہوتی ہے اُن کی لاش پہ عمر اَبد فدا
جو زندہ دل ہیں کشتۂ تیغِ اداے دوست
کب دن پھریں گے دل کے خدا جانے اے حسنؔ
سُنسان مدتوں سے ہے خلوت سراے دوست
مُشاہد رضوی
 کیوں حُسن میں جھگڑتے ہیں شمس و قمرسے آپ

شہنشاہ سخن استاذ زمن علامہ حسن رضا بریلوی

کیوں حُسن میں جھگڑتے ہیں شمس و قمرسے آپ
اپنا جمال دیکھیے میری نظر سے آپ
اے جانِ گل گزرتے ہیں جس رَہ گزر سے آپ
کہتی ہیں نکہتیں کہ گئے ہیں اِدھر سے آپ
دل دے کے جورِ شانِ تغافل اٹھائے کون
معلوم ہوتے ہیں ہمیں کچھ بے خبر سے آپ
تھیں شوخیاں مگر یہ قیامت کبھی نہ تھی
سیدھی طرح سے دیکھیے ترچھی نظر سے آپ
ہو جائے بات صاف میں عاشق ہوں یا رقیب
ہاں ہاں اِسے تو پوچھ ہی لیں ہر بشر سے آپ
آنکھوں سے دیکھ لیتے مرے شوقِ دید کو
آتے جو میرے دل میں ذرا پیشتر سے آپ
میں نے کبھی کہا ہے کسی سے جو اَب کہوں
کہہ جائیں میرا حال مرے چارہ گر سے آپ
عشاق چشم سے تو یہ پردہ کبھی نہ تھا
آنکھیں چھپائے بیٹھے ہیں اب کس نظر سے آپ
بے دیکھے کیوں گواہ ہوں دیکھیں تو کچھ کہیں
ہونے کو ہوں گے جیتتے شمس و قمر سے آپ
ماتم ہے شرق و غرب میں عاشق کی مرگ کا
کیونکر کہوں خبر نہیں ایسی خبر سے آپ
عاشق کے دل میں کچھ نہ رہا اب سوائے حشر
پھر دیکھ لیجیے نگہِ فتنہ گر سے آپ
قسمت نے کامیابی کے رستے کیے تھے بند
میرے خیال میں چلے آئے کدھر سے آپ
میں کیا کہوں جنونِ محبت نے کیا کیا
یہ حال پوچھ لیجیے دیوار و دَر سے آپ
گنتی کے سانس باقی ہیں بیمارِ ہجر میں
آ جائیں کاش پیشتر اپنی خبر سے آپ
کیا حالِ دردِ دل میں گزارش کروں حسنؔ
پہچان لیں گے آپ مری چشم تَر سے آپ
مُشاہد رضوی
 وہ مان گئے تو وصل کا ہو گا مزہ نصیب

شہنشاہ سخن استاذ زمن علامہ حسن رضا بریلوی 

وہ مان گئے تو وصل کا ہو گا مزہ نصیب
دل کی گرہ کے ساتھ کھلے گا مرا نصیب
کھائیں گے رحم آپ اگر دل بگڑ گیا
ہو جائے گا ملاپ اگر لڑ گیا نصیب
خنجر گلے پہ سر تہِ زانوے دل رُبا
اے مجرمانِ عشق تمہارے خوشا نصیب
پچھلے کو لطفِ وصل سے فرقت ہوئی ہمیں
سویا سحر کو رات کا جاگا ہوا نصیب
شب بھر جمالِ یار ہو آنکھوں کے رُوبرو
جاگیں نصیب جس کو ہو یہ رَت جگا نصیب
اے دل وہ حال سن کے ہوئے برہم اور بھی
اب کوئی کیا کرے تری قسمت ترا نصیب
قسمت کے چین سے بھی اذیت ہے ہجر میں
تڑپا میں ساری رات جو سویا مرا نصیب
بے درد دل عدو کی گلی اور یہ ذلتیں
اس درد کی تجھے نہ کبھی ہو دوا نصیب
پہرا دیا ہے دولتِ بیدارِ حسن کا
سوئے جو وہ بغل میں تو جاگا مرا نصیب
پہنچا کے میری خاک درِ یار تک صبا
رُخصت ہوئی یہ کہہ کر اب آگے ترا نصیب
محرومِ دید جلوہ گہِ یار سے چلے
اس سے زیادہ اور دکھائے گا کیا نصیب
اے دل وہ تجھ سے کہتے ہیں میری بَلا ملے
ایسے ترے نصیب کہاں اے بَلا نصیب
دشمن کی آنکھ اور ترا روے پُر ضیا
اس تیرہ بخت کا یہ چمکتا ہوا نصیب
دل کا قرار ہے تو اُنھیں پہلوؤں میں ہے
اے کاش ہو نصیب مرا غیر کا نصیب
میناے مے نے سر کو جھکا کر کیا سلام
تم بھی دعا دو حضرتِ زاہد بڑا نصیب
اُس خاکِ دَر کا کنگرۂ عرش پر دماغ
اُس رَہ گزر کے ذرّوں کا چمکا ہوا نصیب
اے دل عدُو کا سینہ ہے اور دستِ یار ہے
تیرے ہی آبلوں کا ہے پھوٹا ہوا نصیب
جب دردِ دل بڑھا تو اُنھیں رحم آ گیا
پیدا ہوئی چمک تو چمکنے لگا نصیب
پہنچے ہم اُن کے پاس نہ فریاد کان تک
کس کس کرم کا شکر کریں نا رَسا نصیب
وہ شہ نشیں میں رہ کے کھنڈر کیا کریں پسند
ٹوٹے ہوئے دلوں کا ہے پھوٹا ہوا نصیب
پہنچا دیا ہے تجھ کو لبِ گور ہجر میں
اے دل ہو دشمنوں کا ترے نارسا نصیب
تشریف لائے ہیں وہ مجھے سن کے جاں بلب
کس وقت دردِ دل کی ہوئی ہے دوا نصیب
دشمن کو لطفِ وصل، حسنؔ کو غمِ فراق
ہر شخص کا جدا ہے مقدر، جدا نصیب
مُشاہد رضوی
 جو کہے سن کے مدعا مطلب

شہنشاہ سخن ستاذ زمن علامہ حسن رضا بریلوی

جو کہے سن کے مدعا مطلب
      میرے مطلب سے اُس کو کیا مطلب
مل گیا دل نکل گیا مطلب
     آپ کو اب کسی سے کیا مطلب
جو نہ نکلے کبھی نہ پورا ہو
     وہ مرا مدعا مرا مطلب
حُسن کا رُعب ضبط کی گرمی
     دل میں گُھٹ گُھٹ کے رہ گیا مطلب
نہ سہی عشق دُکھ سہی ناصح
     تجھ کو کیا کام تجھ کو کیا مطلب
مژدہ اے دل کہ نیم جاں ہوں میں
     اب تو پورا ہوا ترا مطلب
اپنے مطلب کے آشنا ہو تم
     سچ ہے تم کو کسی سے کیا مطلب
آتشِ شوق اور بھڑکا دی
     منہ چھپانے کا کھل گیا مطلب
کچھ ہے مطلب تو دل سے مطلب ہے
     مطلب دل سے ان کو کیا مطلب
اُن کی باتیں ہیں کتنی پہلو دار
     سب سمجھ لیں جدا جدا مطلب
جب مری آرزو سے کام نہیں
    پھر مرے دل سے تم کو کیا مطلب
حال کہنے سے مجھ کو یوں روکا
    میں تمہارا سمجھ لیا مطلب
خط میں لکھوں جو حال فرقت کا
    تو عبارت سے ہو جدا مطلب
نیل ہو گا عدو کے بوسوں کا
   منہ چھپانے سے اور کیا مطلب
اُس کو گھر سے نکال کر خوش ہو
     کیا حسنؔ تھا رقیب کا مطلب
مُشاہد رضوی
 دیکھے اگر یہ گرمیِ بازار آفتاب

استاذ زمن شہنشاہ سخن علامہ حسن رضا بریلوی 

دیکھے اگر یہ گرمیِ بازار آفتاب
سر بیچ کر ہو تیرا خریدار آفتاب
کب تھے نصیب مہر یہ انوار، یہ عروج
تو جس کو چاہے کر دے مرے یار آفتاب
کس نے نقابِ عارضِ روشن اٹھا دیا
ہر ذرّے سے ہے آج نمودار آفتاب
وہ حُسن خود فروش اگر بے نقاب ہو
مہتاب مشتری ہو خریدار آفتاب
ذرّوں میں مل کے پھر نہ پتا حشر تک چلے
آئے تری گلی میں جو اے یار آفتاب
پوشیدہ گیسوؤں میں ہوا روے پُر ضیا
ہے آج میہمان شبِ تار آفتاب
آساں نہیں تمہاری تجلی کا سامنا
شکلِ چراغ روز ہے اے یار آفتاب
اُس کی تجلّیوں سے کرے کون ہم سری
ہو جس کے نقشِ پا سے نمودار آفتاب
رستہ ترا دلوں میں فلک اس کی رہ گزر
پائے کہاں یہ خوبیِ رفتار آفتاب
رُک رُک کے پردۂ رُخِ روشن اُٹھائیے
گر جائے چرخ کھا کے نہ اے یار آفتاب
آتا ہے جام لے کے صبوحی کے واسطے
ہر صبح پیش ساقیِ مے خوار آفتاب
تیرے فروغِ رُخ کی ثنا کس سے ہو اَدا
بنتا ہے تیرا طالبِ دیدار آفتاب
تارِ شعاع میں یہ خبر بھیجتا ہے روز
بے مہر مہر کر کہ ہوا زار آفتاب
ہر صبح آ کر اُن کو جگاتا ہے خواب سے
رکھتا ہے کیا ہی طالعِ بیدار آفتاب
احباب کو حسنؔ وہ چمکتی غزل سنا
ہر لفظ سے ہو جس کے نمودار آفتاب
ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.