Mushahid Razvi
 جو کہے سن کے مدعا مطلب

شہنشاہ سخن ستاذ زمن علامہ حسن رضا بریلوی

جو کہے سن کے مدعا مطلب
      میرے مطلب سے اُس کو کیا مطلب
مل گیا دل نکل گیا مطلب
     آپ کو اب کسی سے کیا مطلب
جو نہ نکلے کبھی نہ پورا ہو
     وہ مرا مدعا مرا مطلب
حُسن کا رُعب ضبط کی گرمی
     دل میں گُھٹ گُھٹ کے رہ گیا مطلب
نہ سہی عشق دُکھ سہی ناصح
     تجھ کو کیا کام تجھ کو کیا مطلب
مژدہ اے دل کہ نیم جاں ہوں میں
     اب تو پورا ہوا ترا مطلب
اپنے مطلب کے آشنا ہو تم
     سچ ہے تم کو کسی سے کیا مطلب
آتشِ شوق اور بھڑکا دی
     منہ چھپانے کا کھل گیا مطلب
کچھ ہے مطلب تو دل سے مطلب ہے
     مطلب دل سے ان کو کیا مطلب
اُن کی باتیں ہیں کتنی پہلو دار
     سب سمجھ لیں جدا جدا مطلب
جب مری آرزو سے کام نہیں
    پھر مرے دل سے تم کو کیا مطلب
حال کہنے سے مجھ کو یوں روکا
    میں تمہارا سمجھ لیا مطلب
خط میں لکھوں جو حال فرقت کا
    تو عبارت سے ہو جدا مطلب
نیل ہو گا عدو کے بوسوں کا
   منہ چھپانے سے اور کیا مطلب
اُس کو گھر سے نکال کر خوش ہو
     کیا حسنؔ تھا رقیب کا مطلب
0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.