مُشاہد رضوی
 دیکھے اگر یہ گرمیِ بازار آفتاب

استاذ زمن شہنشاہ سخن علامہ حسن رضا بریلوی 

دیکھے اگر یہ گرمیِ بازار آفتاب
سر بیچ کر ہو تیرا خریدار آفتاب
کب تھے نصیب مہر یہ انوار، یہ عروج
تو جس کو چاہے کر دے مرے یار آفتاب
کس نے نقابِ عارضِ روشن اٹھا دیا
ہر ذرّے سے ہے آج نمودار آفتاب
وہ حُسن خود فروش اگر بے نقاب ہو
مہتاب مشتری ہو خریدار آفتاب
ذرّوں میں مل کے پھر نہ پتا حشر تک چلے
آئے تری گلی میں جو اے یار آفتاب
پوشیدہ گیسوؤں میں ہوا روے پُر ضیا
ہے آج میہمان شبِ تار آفتاب
آساں نہیں تمہاری تجلی کا سامنا
شکلِ چراغ روز ہے اے یار آفتاب
اُس کی تجلّیوں سے کرے کون ہم سری
ہو جس کے نقشِ پا سے نمودار آفتاب
رستہ ترا دلوں میں فلک اس کی رہ گزر
پائے کہاں یہ خوبیِ رفتار آفتاب
رُک رُک کے پردۂ رُخِ روشن اُٹھائیے
گر جائے چرخ کھا کے نہ اے یار آفتاب
آتا ہے جام لے کے صبوحی کے واسطے
ہر صبح پیش ساقیِ مے خوار آفتاب
تیرے فروغِ رُخ کی ثنا کس سے ہو اَدا
بنتا ہے تیرا طالبِ دیدار آفتاب
تارِ شعاع میں یہ خبر بھیجتا ہے روز
بے مہر مہر کر کہ ہوا زار آفتاب
ہر صبح آ کر اُن کو جگاتا ہے خواب سے
رکھتا ہے کیا ہی طالعِ بیدار آفتاب
احباب کو حسنؔ وہ چمکتی غزل سنا
ہر لفظ سے ہو جس کے نمودار آفتاب
0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.