Mushahid Razvi
 کیوں حُسن میں جھگڑتے ہیں شمس و قمرسے آپ

شہنشاہ سخن استاذ زمن علامہ حسن رضا بریلوی

کیوں حُسن میں جھگڑتے ہیں شمس و قمرسے آپ
اپنا جمال دیکھیے میری نظر سے آپ
اے جانِ گل گزرتے ہیں جس رَہ گزر سے آپ
کہتی ہیں نکہتیں کہ گئے ہیں اِدھر سے آپ
دل دے کے جورِ شانِ تغافل اٹھائے کون
معلوم ہوتے ہیں ہمیں کچھ بے خبر سے آپ
تھیں شوخیاں مگر یہ قیامت کبھی نہ تھی
سیدھی طرح سے دیکھیے ترچھی نظر سے آپ
ہو جائے بات صاف میں عاشق ہوں یا رقیب
ہاں ہاں اِسے تو پوچھ ہی لیں ہر بشر سے آپ
آنکھوں سے دیکھ لیتے مرے شوقِ دید کو
آتے جو میرے دل میں ذرا پیشتر سے آپ
میں نے کبھی کہا ہے کسی سے جو اَب کہوں
کہہ جائیں میرا حال مرے چارہ گر سے آپ
عشاق چشم سے تو یہ پردہ کبھی نہ تھا
آنکھیں چھپائے بیٹھے ہیں اب کس نظر سے آپ
بے دیکھے کیوں گواہ ہوں دیکھیں تو کچھ کہیں
ہونے کو ہوں گے جیتتے شمس و قمر سے آپ
ماتم ہے شرق و غرب میں عاشق کی مرگ کا
کیونکر کہوں خبر نہیں ایسی خبر سے آپ
عاشق کے دل میں کچھ نہ رہا اب سوائے حشر
پھر دیکھ لیجیے نگہِ فتنہ گر سے آپ
قسمت نے کامیابی کے رستے کیے تھے بند
میرے خیال میں چلے آئے کدھر سے آپ
میں کیا کہوں جنونِ محبت نے کیا کیا
یہ حال پوچھ لیجیے دیوار و دَر سے آپ
گنتی کے سانس باقی ہیں بیمارِ ہجر میں
آ جائیں کاش پیشتر اپنی خبر سے آپ
کیا حالِ دردِ دل میں گزارش کروں حسنؔ
پہچان لیں گے آپ مری چشم تَر سے آپ
0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.