Mushahid Razvi
پوچھتے ہیں لوگ کیوں مضطر تیرا دل ہو گیا


پوچھتے ہیں لوگ کیوں مضطر تیرا دل ہو گیا
کچھ تمہیں معلوم ہے کس پر یہ مائل ہو گیا


خوش نہ ہوں ٹکڑے اگر آئینۂ دل ہو گیا
اُن کی یکتائی کا دعوی بھی تو باطل ہو گیا


آنکھ سے دیکھا ہو تو ناصح کسی کا نام لوں
کیا خبر کس کے لیے مضطر مرا دل ہو گیا


کیا تیری تیغ اَدا ہے موجۂ آبِ حیات
پڑگیا زندوں میں وہ تو جس کا قاتل ہو گیا


حُسنِ لیلیٰ کو غرض پردہ نشینی سے نہ تھی
قیس ہی کا بختِ بد در پردہ محمل ہو گیا


دل دُکھانا کیا کہ اب ہے قتل بھی واجب مرا
یہ گنہ کیا کم ہے اُن پر قلب مائل ہو گیا


نرم ہو کر اپنے پہلو میں جگہ دینے لگا
پاؤں جس پتھر پر اُس نے رکھ دیا دل ہو گیا


سخت جانی نے نہ پوری ہونے دی اُمید قتل
گِر گئی تلوار، شل بازوے قاتل ہو گیا


غیر دشمن اپنے بیگانے زمانہ بر خلاف
دل لگانے کا جو حاصل ہے وہ حاصل ہو گیا


خود لگانا تاک کر دل پر مرے تیر نظر
خود ہی کہنا بیٹھے بیٹھے کیوں یہ بسمل ہو گیا


حُسن عالم سوز کا پردے میں رہنا تھا محال
دیکھ لو جلوہ تمہارا شمع محفل ہوگیا


آئنے دیکھ اپنا منہ، حد سے قدم آگے نہ ڈال
تو بھی اُن کے سامنے آنے کے قابل ہو گیا


سخت جانوں سے اجل پھرتی ہے کترائی ہوئی
ہم نے یہ صدمے سہے مرنا بھی مشکل ہو گیا


ناز اپنے دیکھیے انداز اپنے دیکھیے
کیا کہوں قابو سے باہر کیوں مرا دل ہو گیا


ایک جلوے نے ترے بدلی ہیں کیا کیا صورتیں
دل کا آئینہ ہوا آئینہ کا دل ہو گیا


کیا خبر اُس کو کہ وہ ناوک فگن ہے مستِ حُسن
چھد رہا کس کا کلیجہ کون بسمل ہو گیا


پھر میں کہہ دوں گا جلا کیوں صورتِ پروانہ دل
یہ بتا دے پہلے تو کیوں شمع محفل ہو گیا


اس قدر قولِ منجم سے پریشاں کیوں ہوئے

مدتیں گزریں حسنؔ یہ علم باطل ہو گیا
0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.