مُشاہد رضوی

فتنہ گر کیا میرا نالہ رَسا ہو جائے گا


فتنہ گر کیا میرا نالہ رَسا ہو جائے گا
کچھ نہ ہو گا جب بھی اِک محشر بپا ہو جائے گا

پردۂ دَر تو اُٹھاتے ہو جنابِ دل مگر
یہ بھی ہے معلوم کس کا سامنا ہو جائے گا

فتنے پیدا ہوتے ہیں طرزِ خرامِ ناز سے
جب چلو گے دو قدم محشر بپا ہو جائے گا

خوش ہوئے تھے ہم کہ خنجر تو گلے سے مل گیا
کیا خبر تھی یہ بھی دم دے کر جدا ہو جائے گا

جس کو دل دیتا ہوں جس پر جان کرتا ہوں فدا
یہ نہ سمجھا تھا وہی دشمن مرا ہو جائے گا

بے محابا تم چلے آؤ کہ اہلِ بزم پر
بے خودی چھائے گی خود ہی تخلیہ ہو جائے گا

آج بیمارِ الم کے طور کچھ بے طور ہیں
تم نظر بھر دیکھ آؤ گے تو کیا ہو جائے گا

قتل کرنے کو وہ کیا پردے میں چھپ کر آئیں گے
یوں بھی تو پورا ہمارا مدعا ہو جائے گا

دل نہ دینے کی شکایت ہے عدو کے سامنے
یہ تو کہیے آپ کا وعدہ وفا ہو جائے گا

رحم آ ہی جائے گا اُن کو دلِ بیمار پر
درد بڑھتے بڑھتے آخر کو دوا ہو جائے گا

بے ڈبوئے پھر نہ چھوڑے گا ستم گر اے حسنؔ
کشتیِ دل کا اگر وہ ناخدا ہو جائے گا
0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.