Mushahid Razvi
مر گیا بیمارِ فرقت مختصر قصہ ہوا


مر گیا بیمارِ فرقت مختصر قصہ ہوا
روز کا جھگڑا مٹا بہتر ہوا اچھا ہوا


مرگِ عاشق پر یہ رہ رہ کر تأسف کس لیے
خاک ڈالو ذکر بھی چھوڑو جو ہونا تھا ہوا


آپ ہی قصداً بلانا مجھ کو جاتا دیکھ کر
آپ ہی پھر چھیڑ سے کہنا مجھے دھوکا ہوا


آپ کی تو میری بدنامی سے بدنامی نہیں
آپ تو رُسوا نہ ہوں گے میں اگر رُسوا ہوا


الفتِ گیسوے جاناں عمر ہو تیری دراز
دل بَلاؤں میں پھنسا کر مفت میں سودا ہوا


آنکھوں آنکھوں میں مرے دل کو چُرانا آپ ہی
آپ ہی پھر میری حیرت پر یہ کہنا کیا ہوا


آپ سچے ہیں گیا تھا میں ہی بزمِ غیر میں
سر جھکائے مَیں ہی تو بیٹھا ہوں شرمایا ہوا


میں یہ کہتا ہی رہا دیکھو دلِ بے کس نہ لو
وہ یہ سنتا ہی رہا دل چھین کر چلتا ہوا


کلمۂ بے جا نہ کہنا تم حسنؔ کی شان میں
زاہدو تم اُس کو کیا جانو وہ ہے پہنچا ہوا

0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.