مُشاہد رضوی
مے سے کیا رنگ کا نکھار ہوا


مے سے کیا رنگ کا نکھار ہوا
پھول پیکر وہ گل عذار ہوا

خاک میں مل گئی خوشی اپنی
کہ وہ دشمن کا سوگوار ہوا

میرے دل پر بھی اب کوئی جلوہ
طور کا تو بہت وقار ہوا

تمہیں ٹھوکر لگانے سے مطلب
مَیں ہوا یا مرا مزار ہوا

آہ عاشق ذرا سنبھل کے سنو
یہ بھی کیا نالۂ ہزار ہوا

اُن کے جلوے کی گرمیاں دیکھو
دلِ ہر سنگ میں شرار ہوا

آنکھ وہ ہے جو اشک بار رہی
دل وہی ہے جو بے قرار ہوا

نہیں ملتا ہمیں نہیں ملتا
دل بھی یا رب مزاجِ یار ہوا

غیر تھا منہ لگانے کے قابل
جاؤ بھی تم کو کس سے پیار ہوا

دستِ وحشت نے پھر نکالے پاؤں
سر پر اب پھر جُنوں سوار ہوا

ہاں جی سچ تو ہے تم کو کیا معلوم
دل مرا آپ بے قرار ہوا


فتنہ جو تیری چال سے اٹھا
وہی آشوبِ روزگار ہوا


ہائے رے اُس کے دل کی ناکامی
جو تمہارا اُمید وار ہوا

داغِ الفت جگر میں دیکھ لیے
بد گماں اب تو اِعتبار ہوا

لوگ دل تھامے پھر رہے ہیں کیوں
کیا وہ پردے سے آشکار ہوا

سچ تو ہے تم کو غیر سے کیا کام
یہ میں بیٹھا ہوں شرم سار ہوا

ترس آتا ہے اُس کی حالت پر
تم کو جس دل پر اختیار ہوا

ہیں یہی ضبط عشق کے دشمن
تو ہوا موسم بہار ہوا

ہو گیا صرفِ گریہ عنصر آب
دیکھ اتنا میں اشک بار ہوا

کُھل گیا عشق غیر اسی سے کہ وہ
تیرے آگے نہ بے قرار ہوا

شاید اب دوست دیکھنے آئے
غیر حالِ وفا شعار ہوا

کیا قیامت تھیں پیار کی نظریں
میٹھی چُھریوں سے دل فگار ہوا

تھا جو اک مست مے کا دیوانہ
خشت خم سے میں سنگ سار ہوا

دیکھ بلبل سنبھل کر اس گل کو
یہ بھی کیا جلوۂ بہار ہوا

مشک کی کس سے چھپ سکی خوشبو
عشق کا کون پردہ دار ہوا

محوِ عشرت ہوں یہ کہ یاد نہیں
رات کس سے میں ہمکنار ہوا

اس کو سمجھیں ہیں راز حضرتِ دل
جو زمانے پر آشکار ہوا

رفتہ رفتہ وہ جلوۂ بے باک
آفتِ جانِ روزگار ہوا

آؤ تیار ہے جنازہ مرا
یہ بھی کیا آپ کا سنگار ہوا

اے حسنؔ مے کشی کو بیٹھ گئے
کچھ ہمارا بھی اِنتظار ہوا

0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.