مُشاہد رضوی

عیادت کیوں کریں وہ مدعا کیا


 عیادت کیوں کریں وہ مدعا کیا
کہ دردِ بے کسی کا پوچھنا کیا


ہجوم صدمۂ فرقت تو دیکھو
کرے اب صبر طاقت آزما کیا


نہ سُوجھا دل لگاتے وقت کچھ بھی
پر اب کہتا ہوں یہ میں نے کیا کیا


یہ مانا دُکھ ہمارا لا دوا ہے
جو وہ پوچھیں تو اے دل پوچھنا کیا


چسک رہ رہ کر اُٹھتی ہے یہ کیسی
الٰہی میرے دل کو ہو گیا کیا


میری بالیں سے یہ کہتے اٹھے وہ
مریضانِ محبت کی دوا کیا


کوئی دُکھ دینے والوں سے یہ پوچھے
کہ تم کو اس میں آتا ہے مزا کیا


یہی حسرت سے تم کو دیکھے جانا
سوا اِس کے ہمارا مدعا کیا


رہے مرنے ہی والے چین سے کچھ
جو دُکھ بھرتے ہیں اُن کا پوچھنا کیا


ترس آتا نہیں مطلق کسی کو
گزرتی ہے کسی پر ہائے کیا کیا


ستاؤ دل دُکھاؤ مار ڈالو
نہ آئے گا کبھی روزِ جزا کیا


کٹے گی بے کسی کی رات کیوں کر
جو دل ہی لے چلے تم پھر رہا کیا


حسنؔ کیوں کر دیا ٹکڑے گریباں
یہ بیٹھے بیٹھے جی میں آ گیا کیا


0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.