مُشاہد رضوی


کرے ایسے سے کوئی التجا کیا


کرے ایسے سے کوئی التجا کیا
کہے جو سُن کے مطلب مدعا کیا
کوئی افسوں پڑھا یا گالیاں دیں
مجھے یہ چپکے چپکے کہہ لیا کیا
میرے گھر پوچھتا آیا انہیں غیر
مجھے حیرت کہ ہے یہ ماجرا کیا
ہمارے ہاتھ سے بھی کوئی ساغر
جو کھل کھیلے تو پھر شرم و حیا کیا
درِ دُشمن پہ لے جاتا ہے ہر روز
ستم کرتا ہے تیرا نقشِ پا کیا
اگر وہ میرے جانے سے نہ آئے
تو پھر اے شوقِ دل تیری سزا کیا
میں حاضر ہوں جو کرتے ہو مجھے قتل
مگر کس بات پر مَیں نے کیا کیا
میرے سینے کو دیکھو دل کو دیکھو
نہیں ناوک نگاہِ عشوہ زا کیا
گماں ہے آپ کا وہ کون میں کون
حسنؔ مجھ سے کسی سے واسطہ کیا
0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.