Mushahid Razvi

عدو نے حالِ محبت جو آ شکار کیا

 
عدو نے حالِ محبت جو آ شکار کیا
تمہیں خدا کی قسم تم نے اعتبار کیا

تمہارے وعدے کا اتنا تو اعتبار کیا
کہ بعد مرگ بھی مرقد میں انتظار کیا

مصیبت ایسی اٹھائی کہ صبح یاد نہیں
یہ کس کی یاد نے شب مجھ کو بے قرار کیا

تمہیں تو شرم سے منہ کھولنا بھی مشکل ہے
عدو کو رات مگر میں نے ہمکنار کیا

ستمگروں کے ستم کی ترقیاں دیکھو
کہ مجھ کو خاک کیا خاک کو غبار کیا

خبر سنی جو میری نزع کی تو آتے ہیں
دمِِ اخیر بھی مجھ کو اُمیدوار کیا

کیا کمال بڑا تیر آپ نے مارا
کسی غریب کے دل کو اگر شکار کیا

مرے ہی نقشِ قدم ہیں یہ کوئے دشمن میں
قسم نہ کھائیے بس میں نے اعتبار کیا

عدو بھی چین سے ہے وہ بھی چین سے اے آہ
مجھی کو تو نے بھی ہر پھرکے بے قرار کیا

میں چاہتا نہیں بدنامِ عشق ہو کے جیوں
کہ اُس نے راز محبت کا آ شکار کیا

میں کیوں سناؤں جو گزری گزر گئی دل پر
میں کیوں بتاؤں کیا جس نے بے قرار کیا

خطا معاف کرو مجھ کو پیار کر لو تم
خطا ہوئی جو مرے دل نے تم کو پیار کیا

مزا جبھی ہے مرے بدگماں محبت کا
کہ میں نے بات کہی تو نے اعتبار کیا

بہت دنوں سے یہ ہیں مہربانیاں مجھ پر
اُمیدوار کیا اور بے قرار کیا

عدو ہو دل ہو کوئی ہو تمہاری جان سے دُور
وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا

سکونِ دل کا سبب ہو گئی تھی مایوسی
یہ کیا کیا کہ مجھے پھر اُمیدوار کیا

فراقِ ساقیِ مے کش میں اے حسنؔ ہم نے
شراب کا ہے کو پی زہر زہر مار کیا

0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.