مُشاہد رضوی
وہ ہنس ہنس کے مجھ کو رُلانا کسی کا

از : علامہ حسن رضا بریلوی
 
وہ ہنس ہنس کے مجھ کو رُلانا کسی کا
وہ پھر گُدگُدا کر ہنسانا کسی کا

بہت یاد آتا ہے جانا کسی کا
بگڑنا کسی کا منانا کسی کا

کلیجہ ہے بس میں نہ قابو میں دل ہے
قیامت ہوا یاد آنا کسی کا

کہیں دل بھی بچتا ہے تیرِ نظر سے
یہ تاکا ہوا ہے نشانہ کسی کا

بُرے حال والوں سے اُن کو غرض کیا
سنیں کس لیے وہ فسانہ کسی کا

ذرا آہ پُر درد سے بچتے رہنا
نہیں دل لگی دل دُکھانا کسی کا

میرا بیٹھنا دَر پہ کس آرزو سے
وہ ٹھوکر لگا کر اُٹھانا کسی کا

نئے سر سے پھر آگ بھڑکا گیا ہے
وہ دستِ حنائی دکھانا کسی کا

ستم کرنے والوں کو سمجھا دے کوئی
کہ اچھا نہیں دل دُکھانا کسی کا

کرے گا بہت چاک جیب و گریباں
یہ پردے سے جلوہ دکھانا کسی کا

تمہیں حضرت دل کہیں رو نہ بیٹھوں
ہنسی تو نہیں مسکرانا کسی کا

حسنؔ آ گئے اُن کی باتوں میں آخر
کہا ایک تم نے نہ مانا کسی کا
2 Responses
  1. Raza Markazi Says:

    واہ جناب علامہ حسن رضا کی غزلیہ شاعری کا یہ خوب صورت بلاگ مبارک ہو


  2. sara naqvi Says:
    This comment has been removed by the author.

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.