Mushahid Razvi
یہ دل ہے کہ دشمن ہے مری جانِ حزیں کا

از: علامہ حسن رضا بریلوی 

یہ دل ہے کہ دشمن ہے مری جانِ حزیں کا
 مجھ کو اسی کم بخت نے رکھا نہ کہیں کا
 
اے مست مئے ناز ذرا دیکھ کے چلنا
پِس جائے کہیں دل نہ کسی خاک نشیں کا

پھر جھوٹوں کے وعدے پہ ہے خوش اے دلِ ناداں
کم بخت ٹھکانا ہی نہیں تیرے یقیں کا

آغازِ محبت میں اُٹھائی وہ مصیبت
کچھ ڈر نہ رہا مجھ کو دم باز پسیں کا

پسپا ہوئے جاتی ہے سرِ شوق کی ہمت
عالی ہے یہ رُتبہ تیرے کوچے کی زمیں کا

اُس شوخ کے اِنکار سے دل ٹکڑے ہوا کیوں
یا رب کوئی خنجر تو نہ تھا لفظ ’نہیں‘ کا

اک نالے ہی میں آپ جگر تھامے چلے آئے
اک وار بھی اُٹھا نہ مری جانِ حزیں کا

عالم میں اُٹھا چاہتی ہے تازہ قیامت
جوبن ہے ترقی پہ بتِ ماہِ جبیں کا

عشاق ہیں رُسوا سرِ بازارِ محبت
ادنیٰ سا یہ اک ناز ہے اُس پردہ نشیں کا

جس میں ہے تمہارے رُخ رنگیں کا تصور
اُس دل کو لقب دیجیے فردوسِ بریں کا

اِس ضعف میں اُس کوچے کو جاتا ہوں کہ ہر گام
جو دیکھے وہ سمجھے کہ اِرادہ تھا یہیں کا

پھر صبر سکھائیں مجھے ناصح تو میں جانوں
جلوہ نظر آ جائے میرے ماہ جبیں کا

گر حضرتِ دل یار سے اِقرار ہو لینا
یوں کہیے کہ مشتاق ہوں میں تیری ’نہیں‘ کا

دیکھو تو حسنؔ لوگ تمہیں کہتے ہیں کیا کیا
کیوں عشق کیا آپ نے اُس دشمنِ دیں کا
0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.