Mushahid Razvi


میں اور شبِ فراق اُٹھانا عذاب کا

از : علامہ حسن رضا بریلوی
 میں اور شبِ فراق اُٹھانا عذاب کا
یا رب بُرا ہو اس دلِ خانہ خراب کا

یہ فصلِ گل یہ جُھوم کر آنا سَحاب کا
ساقی میں اور ایک پیالہ شراب کا

دیکھا ہے جب سے حسن رُخِ بے حجاب کا
رنگ آفتاب میں ہے گُلِ آفتاب کا

چھینٹے یہ دے رہا ہے برسنا سحاب کا
ٹھنڈی ہوا میں دَور ہو جامِ شراب کا

تم منہ سے کیوں اٹھاتے ہو گوشہ نقاب کا
چہرہ ابھی سے فق ہے مَہ و آفتاب کا

جوبن اُبھار پر ہے بہارِ شباب کا
اللہ حافظ اُن کی اَداے حجاب کا

چمکا ہوا ہے حسن رُخِ بے حجاب کا
طالع ہے گردشوں میں مہ و آفتاب کا

اُس بزم ناز میں ہیں غضب دل فریبیاں
بے کار اِنتظار ہے خط کے جواب کا

خورشید حشر میری نگاہوں میں کیا جچے
جلوہ خیال میں ہے کسی کے نقاب کا

رُخسار و چشمِ یار کا مارا ہوا ہوں میں
مشتاق سیر باغ نہ پیاسا شراب کا

ذرّاتِ کوے یار میں چہرہ لکھا لیا
چوتھے فلک پر اب ہے دماغ آفتاب کا

کم نکلیں گے زمانے میں ہم سے بھی پاک باز
شیشہ بغل میں ہاتھ میں ساغر شراب کا

دیکھو نہ دیکھو اُس کی طرف چشمِ مست سے
چکرا کے گر پڑے گا پیالہ شراب کا

مد نظر ہے ضبطِ مصیبت یونہی سہی
بجلی گرے جو نام بھی لوں اضطراب کا

کچھ احتیاجِ شمع نہیں پیشِ آٖفتاب
کیا کام تیرے ہوتے ہوئے آفتاب کا

فصلِ بہار کو میں خزاں کہہ رہا ہوں آج
عالم میری نظر میں ہے کس کے شباب کا

فصلِ بہار اور یہ رنگینیاں دروغ
پَرتَو پڑا ہے دُور سے اُن کے شباب کا

سمجھا دیا کرشمۂ اَبرو ہوا ہے یہ
منظور پردہ تھا جو بہارِ شباب کا

کیں اَبر نے اگرچہ عرق ریزیاں بہت
خاکہ نہ کھنچ سکا میری چشمِ پُر آب کا

تم دل میں آؤ تو یہ تماشا دکھاؤں میں
ہے ایک میرے پاس تمہارے جواب کا

تم حُسن میں ہو ایک تو میں فرد عشق میں
ہے کوئی آج میرے تمہارے جواب کا

جب آ گیا ہے یاد تیرا نقشِ پا مجھے
دیکھا ہے کیسی یاس میں منہ آفتاب کا

لکھا ہوا ہے پیرِ مغاں کی دُکان پر
کم ظرف کو حرام ہے پینا شراب کا

دیکھے کوئی حسنؔ کو درِ میکدہ پر آج
لب پر سوال ہاتھ میں ساغر شراب کا

0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.