Mushahid Razvi

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حمد باری تعالیٰ 

استاذ زمن علامہ حسن رضا بریلوی 

کیوں کر اَدا ہو وصف خداے عظیم کا
جب بند ناطقہ ہے کلام و کلیم کا

چشم خیال اور ہوس جلوۂ جمال
بھولا ہوا ہوں واقعہ طور و کلیم کا

کیوں دل میرا دُکھائیں زمانے کے حادثات
تو ہے قدیم اور میں بندہ قدیم کا

اُس سے خود اُس کی ذات کی تشریح پوچھیے
اچھا علاج ہے یہ دماغِ حکیم کا

واجب کا ممکنات میں کیا ہو کوئی شریک
ممکن نہیں وجود عدیل و سہیم کا

ہیں امر و نہی لائقِ تسلیم بے دلیل
خالی حِکَم سے حُکم نہ ہو گا حکیم کا

کیوں میرے پاس آئیں فرشتے عذاب کے
مجرم تو ہوں میں اپنے غفور الرّحیم کا

پودوںمیں شاخیں شاخوں میں گُل گُل میں رنگ و بو
کیوں کر کہوں یہ عطر ہے سعی نسیم کا

اے جمع کرنے والے عظام رمیم کے
کب تک رہے گا حال پریشاں سقیم کا

بعد فنا حدوث و قِدم کا کُھلے گا حال
پوچھیں گے جب مزاج دماغِ حکیم کا

کج رَو کا راست باز کرے خوف کیا حسنؔ
طعمہ ہے مارِ سحر عصاے کلیم کا
0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.