Mushahid Razvi
حمد باری تعالیٰ 

علامہ حسن رضا بریلوی 
باڑا بٹے جو پرتوِ حسن کریم کا
کشکول بھر دے گنبد عرش عظیم کا

مداح قد و زلف و دہانِ حضور ہوں
سر پر ہے میرے سایہ الف لام میم کا

کوثر کہ جس سے پیاس بجھے اہل حشر کی
قطرہ ہے ایک چشمۂ میم کریم کا

بے ظل وہ ظلِ ذات مگر اس لیے بنا
سایہ زمین پر نہ پڑے اس عظیم کا

پروانے  عندلیب  کے  ہم  داستاں  بنے
ہے گل فشاں چراغ تمہارے حریم کا

جب بھی نہ آئے ساحل بحر کرم نظر
چشمہ لگا کے دیکھیں جو میم کریم کا

فرمائے لطف کعبۂ حاجات تو تو ذوق
آغوشِ قبر میں ہو کنارِ حطیم کا

ہم پیاسے سُوکھے گھاٹ نہ اُتریں گے روزِ حشر
دریا چڑھا ہوا ہے عطاے کریم کا

لاَ تَقْنَطُوْا کے سائے میں میرا مقام ہو
جب آفتاب گرم ہو اُمید و بیم کا

اس طرح آؤں قبر سے میدانِ حشر میں
لب پر سوال ہاتھ میں دامن کریم کا

سبطین‘ بادشاہِ جوانانِ خلد ہیں
ظل ہمائے قدس ہے سایہ گلیم کا

اصحاب کالنجوم کا لمعانِ نقش پا
ظلمت میں راہبر ہے رہِ مستقیم کا

ہو سوئے اِعتقاد جسے اہل بیت سے
مثردہ سناؤ اُس کو عذابِ الیم کا

جو پیر دستگیر کا منکر ہے اے حسنؔ
وہ ہے مُریدِ دیو مَرید و رجیم کا
2 Responses

  1. sara naqvi Says:

    السلام علیکم خوش رہیں ڈاکٹر مشاہد رضوی اور آ پ کے احباب


Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.