Mushahid Razvi
 جب مرا مہر جلوہ گر ہو گا

کلام از: استاد زمن علامہ حسن رضا بریلوی
 
جب مرا مہر جلوہ گر ہو گا
دوپہر ہو گا جو پہر ہو گا
تا زباں جو نہ آ سکا دل سے
اُسی نالے میں تو اَثر ہو گا
مر گیا کون کچھ خبر بھی ہے
کوئی تم سا بھی بے خبر ہو گا
آئیں گے جب تمہارے فریادی
حشر سا حشر حشر پر ہو گا
مہرباں آپ کا کرم کس دن
مہرباں میرے حال پر ہو گا
کس سے کی جائے داد کی اُمید
سب اُدھر ہوں گے وہ جدھر ہو گا
دردِ اُلفت میں زندگی کیسی
موت کا کون چارہ گر ہو گا
بھر دیے دشمنوں نے کان اُن کے
نالہ اب خاک کار گر ہو گا
مجھ سے پیاسے کو ساقی ایک ہی جام
دو سبُو میں تو حلق تر ہو گا
تم نہیں کرتے قتل تو نہ کرو
زہر میں بھی تو کچھ اَثر ہو گا
جاتے ہیں اُن سے فیصلہ کرنے
دلِ بدخواہ تو کدھر ہو گا
او رقیبوں کی رونق محفل
اِس طرف بھی کبھی گزر ہو گا
وہ جسے مَل رہے ہیں تلووں سے
کسی مظلوم کا جگر ہو گا
حضرتِ دل مزاج کیسا ہے
پھر بھی اُس کوچہ میں گزر ہو گا
کس کو مطلب ہے بے کسوںسے حسنؔ
کون میرا پیام بَر ہو گا
0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.