مُشاہد رضوی
فکر اسفل ہے مری مرتبہ اَعلیٰ تیرا

علامہ حسن رضا بریلوی 

فکر اَسفل ہے مری مرتبہ اعلیٰ تیرا
وصف کیا خاک لکھے خاک کا پُتلا تیرا

طور پر ہی نہیں موقوف اُجالا تیرا
کون سے گھر میں نہیں جلوئہ زیبا تیرا

ہر جگہ ذکر ہے اے واحد و یکتا تیرا
کون سی بزم میں روشن نہیں اِکّا تیرا

پھر نمایاں جو سر طُور ہو جلوہ تیرا
آگ لینے کو چلے عاشقِ شیدا تیرا

خِیرہ کرتا ہے نگاہوں کو اُجالا تیرا
کیجیے کون سی آنکھوں سے نظارہ تیرا

جلوئہ یار نرالا ہے یہ پردہ تیرا
کہ گلے مل کے بھی کھلتا نہیں ملنا تیرا

کیا خبر ہے کہعَلَی الْعَرْش (۱)کے معنی کیا ہیں
کہ ہے عاشق کی طرح عرش بھی جویا تیرا

اَرِنِیِْگوئے  سرِ  طُور  سے  پوچھے  کوئی
کس طرح غش میں گراتا ہے تجلّا تیرا

پار اُترتا ہے کوئی، غرق کوئی ہوتا ہے
کہیں پایاب کہیں جوش میں دریا تیرا

باغ میں پھول ہوا، شمع بنا محفل میں
جوشِ نیرنگ در آغوش ہے جلوہ تیرا

نئے انداز کی خلوت ہے یہ اے پردہ نشیں
آنکھیں مشتاق رہیں دل میں ہو جلوہ تیرا

شہ نشیں ٹوٹے ہوئے دل کو بنایا اُس نے
آہ اے دیدئہ مشتاق یہ لکھا تیرا

سات پردوں میں نظر اور نظر میں عالم
کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ معمّا تیرا

طُور کا ڈھیر ہوا غش میں پڑے ہیں موسیٰ
کیوں نہ ہو یار کہ جلوہ ہے یہ جلوہ تیرا

چار اضداد کی کس طرح گرہ باندھی ہے
ناخنِ عقل سے کھلتا نہیں عقدہ تیرا

دشتِ ایمن میں مجھے خاک نظر آئے گا
مجھ میں ہو کر نظر آتا نہیں جلوہ تیرا

ہر سحر نغمۂ مرغانِ نواسنج کا شور
گونجتا ہے ترے اوصاف سے صحرا تیرا

وحشیِ عشق سے کھلتا ہے تو اے پردئہ یار
کچھ نہ کچھ چاکِ گریباں سے ہے رشتہ تیرا

سچ ہے اِنسان کو کچھ کھو کے ملا کرتاہے
آپ کو کھو کے تجھے پائے گا جویا تیرا

ہیں ترے نام سے آبادی و صحرا آباد
شہر میں ذکر ترا، دشت میں چرچا تیرا

برقِ دیدار ہی نے تو یہ قیامت  توڑی
سب سے ہے اور کسی سے نہیں پردہ تیرا

آمدِ حشر سے اک عید ہے مشتاقوں کی
اسی پردے میں تو ہے جلوئہ زیبا تیرا

سارے عالم کو تو مشتاقِ تجلّی پایا
پوچھنے جایئے اب کس سے ٹھکانا تیرا

طور پر جلوہ دکھایا ہے تمنائی کو
کون کہتا ہے کہ اپنوں سے ہے پردہ تیرا

کام دیتی ہیں یہاں دیکھیے کس کی آنکھیں
دیکھنے کو تو ہے مشتاق زمانہ تیرا

مے کدہ میں ہے ترانہ تو اَذاں مسجد میں
وصف ہوتا ہے نئے رنگ سے ہر جا تیرا

چاک ہو جائیں گے دل جیب و گریباں کس کے
دے نہ چھپنے کی جگہ راز کو پردہ تیرا

بے نوا مفلس و محتاج و گدا کون کہ میں
صاحبِ جود و کرم، وصف ہے کس کا تیرا

آفریں اہلِ محبت کے دلوں کو اے دوست
ایک کوزے میں لیے بیٹھے ہیں دریا تیرا

اتنی نسبت بھی مجھے دونوں جہاں میں بس ہے
تو مرا مالک و مولیٰ ہے میں بندہ تیرا

اُنگلیاں کانوں میں دے دے کے سنا کرتے ہیں
خلوتِ دل میں عجب شور ہے برپا تیرا

اب جماتا ہے حسنؔ اُس کی گلی میں بستر
خوب رویوں کا جو محبوب ہے پیارا تیرا

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 (۱)  خالق کائنات نے قرآن پاک میں جہاں تخلیق ارض و سما کا ذکر فرمایا وہیں یہ بھی ارشاد فرمایا: ثم استوی علی العرش یعنی پھر عرش پر استوا ء فرمایا (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) ۔ قرآن پاک میں یہ الفاظ چھ مقام پر آئے ہیں (سورہ الاعراف:۵۴،یونس:۳، الرعد:۲،الفرقان:۵۹، السجدہ:۴، الحدید:۴ )مزید ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے: الرحمن علی العرش استوی یعنی وہ بڑی مِہر والا ،اُس نے عرش پر استواء فرمایا جیسا کہ اُس کی شان کے لائق ہے۔(طہ:۵)
    چونکہ استوی کا لغوی معنی قرار پکڑنا، بیٹھنا کے ہیں جو کہ کسی طرح بھی شان اُلوہیت کے لائق نہیں ۔ اسی لیے سیدی اعلیٰ حضرت نے ان آیات کا ترجمہ میں لفظ استوی کا ترجمہ نہ کیا ۔ یہ لفظ متشابہات میں سے ہے ۔ مولانا حسن رضا نے اس شعر میں اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ علی العرش کے معنی سمجھنا عقل انسانی کے بس کی بات نہیں۔

0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.