Mushahid Razvi
 قابومیں شرم ہی کے رہے گا شباب کیا

 
قابومیں شرم ہی کے رہے گا شباب کیا
جلدی ہے تجھ کو اے دل پُر اضطراب کیا

اے دل سوال کے لیے یہ اضطراب کیا
کچھ یہ بھی ہے خبر کہ ملے گا جواب کیا

جلوے کی روک تھام کرے گا حجاب کیا
دریا کے آگے آبِ رواں کی نقاب کیا

بے پردہ کوئی دیکھ سکے تم کو تاب کیا
ایسی تجلّیوں پر اَداے حجاب کیا

تمہید امتحانِ قلق ہے وہ کہتے ہیں
فرقت کی رات آپ نے دیکھا ہے خواب کیا

سرکا اُدھر نقاب اِدھر ہوش اُڑ گئے
بے پردہ ہو کر آپ ہوئے بے حجاب کیا

محوِ رِضائے یار ہوں مجھ کو خبر نہیں
اندازِ لطف کیا ہے اَداے عتاب کیا

اپنی خطائیں اُن کی عطائیں ہیں بے حساب
اِن بے حسابیوں میں ہمارا حساب کیا

بے جا ہے ذکر وصل بجا ہے تمہیں کہو
پھر چاہتا ہے حُسن شبِ ماہ تاب کیا

ناصح نہ روک مے سے کہ تو جانتا نہیں
فصلِ بہار کیا ہے شبِ ماہ تاب کیا

کیا جانے ابر روتے ہیں کیونکر الم نصیب
کیا جانے برق، ہے تپش و اضطراب کیا

سن کر وہ سارا حال یہ کہتے ہیں کیا کہا
اِس ’کیا کہا‘ کا کہیے کوئی دے جواب کیا

ساقی کی چشمِ مست نے سب کو چھکا دیا
اس دور میں ضرورتِ جام شراب کیا

کہتا ہے برق سے یہ مرا بے قرار دل
تڑپے ٹھہر ٹھہر کے تو پھر اضطراب کیا

آنکھوں کو روئیں دیکھنے والے جھلک کے ساتھ
جلوہ حجابِ جلوہ ہے پھر یہ حجاب کیا

کیا کیا خجل کیا ہے سوالِ وصال نے
ہے ’کیا‘ ہی ’کیا‘ وہاں کہو ’کیا‘ کا جواب کیا

اُن کی گلی کے ذرّے سے یہ پوچھتا ہے مہر
محشر کے دن بنو گے تمہیں آفتاب کیا

خلوت پسندیاں ہیں تو کیوں خود نما ہوئے
ہیں خود نمائیاں تو اداے حجاب کیا

وہ خود کرم کریں تو ہیں بندہ نوازیاں
ورنہ میں کیا مرا دلِ خانہ خراب کیا

تو خود نما ہے حسن تیرا عالم آشنا
اِن بے حجابیوں پر اداے حجاب کیا

برقِ جمال ہوش رُبا ہے تو کیا قلق
بے ہوش ہو کے گر نہ پڑے گی نقاب کیا

ذرّاتِ کوئے یار میں کیا ہو فروغِ مہر
دس بیس آفتاب میں ایک آفتاب کیا

۔صحرا میں بے کسی کے مزے لے رہا ہے تو
اب اور چاہیے دلِ خانہ خراب کیا

کس واسطے نگاہ ٹھہرتی نہیں حسنؔ

رُخسارِ یار میں ہے رواں آفتاب کیا

0 Responses

Post a Comment

ثمر فصاحت 2013. Powered by Blogger.